اپریل گذشتہ کو مسٹر روزولٹ سابق پریسیڈنٹِ امریکہ نے پیرس میں ایک زبردست و پر مغز تقریر کی جس نے سارے یورپ و امریکہ میں غلغلہ ڈال دیا۔ تقریر مذکور کا اقتباس ہدیۂ ناظرین ہے۔
مدتوں ہمارے اجداد کو جنگلیوں اور وحشیوں سے سابقہ رہا (کیونکہ امریکہ کے اصلی باشندے 300 برس قبل بالکل جاہل تھے)۔ قدیم علوم و فنون کے خزانے جو ہمارے بزرگوں کے ساتھ تھے۔ (اور جو اس وقت ہمارے یورپی بھائیوں کے پاس ہیں) ہم لوگ ان کو قائم نہ رکھ سکے اور نہ رکھ سکنا ممکن تھا۔ کیونکہ ہم اس وقت اس طرح کی جنگ و جدل میں مصروف رہے جس طرح قرنہائے ماضی میں انسان کو جنگلیوں کے ساتھ مصروف رہنا پڑا تھا۔ اس وقت جبکہ ہم میں ان خزانوں کے قائم رکھنے کی صلاحیت نہ تھی تو اضافہ کرنا تو اور بھی محال تھا۔
بہرحال ان پیش روؤں کا زمانہ گزر گیا۔ صحرا و جنگل زرخیز کھیت ہو گئے، اور جھونپڑے اور خیمے شہر بن گئے۔ حتیٰ کہ اس وقت کی قوم آنے والے تمدن کی راہ بنا کر خود بھی فنا ہو گئی۔ اس وقت سے ان کی اولاد غیر معمولی سرعت کے ساتھ ترقی کرنے لگی۔ ان کی ترقی کے ساتھ ان کے عیوب اور اوصاف کی بھی پرورش ہوتی گئی۔ جانداری کے ساتھ بے رحمی، دلیری کے ساتھ خود غرضی اور حفاظتِ حقوق میں زیادتیوں سے بے پروائی ان کے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔ یہ انہیں اوصاف قدیمہ کے نمونے ہیں جن کو تم ان کی جدید کاروباری مصروفیت میں دیکھ رہے ہو۔ مگر اب یہ حالت بھی کاروباری تمدن کے دوسرے دور میں غروب ہو رہی ہے۔
ملک کی ترقی کے ساتھ قومی دماغ بھی ترقی کرتا گیا، اور اب اتنی مختلف شاخوں میں ترقی کرنے کے بعد وہ دماغی و روحانی غذاؤں کی طرف مصروف ہوا ہے جس کو اس کے اجداد اپنی جنگی مصروفیت کے سبب تصرف میں نہ لا سکے اور اب رہبرانِ خیال و افعال ایک نئی زندگی کا احساس کرنے لگے ہیں جس کے آگے دنیاوی منافع کی محض اس لئے قدر ہے کہ وہ ایک سیڑھی ہے جس کے ذریعہ سے ہم مقاصدِ اعلیٰ کی طرف راہ پا سکتے ہیں۔ اس نئی زندگی کی پرورش کسی قدر تو فضائے امریکہ میں ہو سکتی ہے مگر اس کی پوری تکمیل کے لئے ہم کو پرانی دنیا کے خزانۂ حکمت سے مدد لینی ہوگی۔ محض نقل کرنا کسی قوم کے لئے بھی سخت غلطی ہے۔ مگر بالکل نقل ہی نہ کرنا اس سے زیادہ گمراہی ہے اور یہ سخت کمزوری ہے کہ ہم پرانی باتوں سے کچھ نہ سیکھ سکیں اور نہ ان قدیم حکمتوں کو زمانۂ حال کی ضرورت کے مطابق زندہ رکھ کر کام میں لا سکیں۔ ہم اہل امریکہ کو چاہیئے کہ پرانی دنیا کے آگے مؤدب بیٹھ کر سیکھیں اور اگر ہم میں جوہرِ اصلی ہے تو ہم دکھلا سکیں گے کہ امریکہ بھی اپنی باری میں عالم و معلم بن سکتا ہے۔
آج میں اہلِ شہر کے ذاتی فرائض پر گفتگو کروں گا۔ یہ مضمون ہم دونوں قوموں کے لئے (اہل امریکہ و اہل پیرس) نہایت ہی اہم ہے کیونکہ ہر دو قوم ایک زبردست جمہوری سلطنت کی سرپرست ہیں۔ سلطنت جمہوری یعنی انتظام از افرادِ قوم و برائے افرادِ قوم ایک نہایت ہی عظیم الشان کام ہے۔ جس کی کامیابی تمام روئے زمین کے اقوام کے لئے فخر اور جس کی ناکامی تمام اقوامِ عالم کی ناامیدی و ذلت کا سبب ہو گی۔ اس لئے ہم لوگوں کے واسطے افرادِ قوم کے ذاتی اوصاف کا مسئلہ نہایت ہی اہم ہے۔ دوسری طرح کی سلطنت میں جہاں صرف ایک شخص یا چند اشخاص برسر حکومت ہیں، وہاں صرف حکمرانوں کے اوصاف قابل لحاظ ہیں۔ ایسی سلطنت میں اگرچہ افرادِ قوم کے اخلاق اچھے نہ بھی ہوں، مگر جو برسر حکومت ہیں ان کے اوصاف اچھے ہیں، تو سلطنت کئی پشتوں تک کامیاب رہ سکتی ہے اور فتوحات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہاں افرادِ قوم سے سروکار نہیں اور نہ وہ قومی عظمت و جلال کے بڑھانے میں کبھی معاون ہیں۔ مگر ہم لوگوں کی حالت بالکل جداگانہ ہے۔ ہماری اور آپ کی (اہل پیرس کی) کامیابی اس پر موقوف ہے کہ عام مرد و عورت اپنے فرائض عمدہ طور سے انجام دیں۔ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر ان بڑے بڑے قومی مواقع پر جبکہ ملک کو پامردی اور جانبازی کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے کو قابل اعتبار ثابت کر سکیں۔ غرض کہ ہماری جمہوریت کو اسی وقت ترقی ہو سکتی ہے جبکہ عام اہلِ شہر عمدہ ہوں۔ اس لئے یہ ہم لوگوں کا فرض ہے کہ عوام کے اخلاق کو درست کریں اور عوام کے اخلاق اس وقت تک نہیں درست ہو سکتے جب تک کہ رہبرانِ خیال و افعال کے اخلاق بہت ہی اعلیٰ و ارفع نہ ہوں۔
بہتر ہوتا کہ انتظامِ جمہوریت میں زیادہ عنصر ایسے لیڈروں کا ہوتا جیسے لوگ آج کے جلسے میں شریک ہیں۔ بشرطیکہ ایسے اشخاص کے دلوں میں عوام کے ساتھ ہمدردی ہو اور ان کے خیالات اعلیٰ ہوں۔ حضرات! آپ کو اپنے دماغوں کی پرورش کا موقع ملا ہے آپ میں بہت سے لوگوں کو فراغت نصیب ہے، آپ میں بیشتر لوگوں کو دنیاوی نعمتیں اور ساز و سامانِ زندگی میسر ہیں جو بہتیرے بندگانِ خدا کو نصیب نہیں۔ آپ کو اور آپ کی طرح کے دوسرے لوگوں کو جب بہت سی نعمتیں عطا کی گئی ہیں تو آپ سے اور ان سے بہت زیادہ توقع بھی کی جائے گی۔ مگر تعلیم یافتہ اور دولت مند اشخاص میں بہت سی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں جن کو مٹانے کی ازحد ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ کمزوریاں قائم رہ گئیں تو حضرات! آپ سے حسنِ عمل کی توقع کا خاتمہ ہو گیا۔
علما و فارغ البال فاضلوں کو نفس کی اس مکاری سے آگاہ رہنا چاہیئے جو ان کو صرف نکتہ چینی، ترش مزاجی اور عیب گیری بتاتی ہے جس نے ان کی آرزو و تمنا کو بہت بڑھا دیا ہے اور جس کے آگے نیکی و بدی میں کوئی فرق نہیں۔ دنیاوی معاملات کا حقارت و اہانت سے مقابلہ کرنا سخت بزدلی ہے۔ بہت سے آدمی ہیں جن کو اپنی اس حقارت و اہانت پر ناز ہے اور بہت سے حضرات ہیں جو دوسروں کے ان افعال پر نکتہ چینی کرتے ہیں جن کو خود ان کے کرنے کی ہمت تک نہیں۔ اس سے زیادہ کوئی ناکارہ و بے مصرف شخص نہیں جو حقارت کرتا ہے یا حقارت آمیز نظر سے ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو حقیقت میں قابل قدر ہیں۔ اگرچہ یہ قابل قدر شے کسی کی کامیابی میں ہو یا کسی کی ناکامی میں، کیونکہ ناکامی بھی کامیابی کے برابر ہے اگر وہ کسی اعلیٰ مقصد میں ہو۔ خشک مزاجی، ترش کلامی، نکتہ چینی و بے رخی یہ سب علاماتِ عالی دماغ کے نہیں ہیں جیسا کہ نکتہ چین خیال کرتے ہیں۔ بلکہ سخت کمزوری ہے۔ جو شخص دنیاوی کشمکش سے بھاگتا ہے اور دوسروں کے عمل کو حقارت سے دیکھتا ہے وہ حقیقت میں اپنی نکتہ چینیوں کے پردے میں اپنی کمزوریوں و بے عملیوں کو چھپاتا ہے۔
تعریف ان کی نہیں ہے جو نکتہ چینی کرتے ہیں اور نہ تعریف ان کی ہے جو بتایا کرتے ہیں کہ کام کرنے والے نے کہاں لغزش کی اور کیونکر وہ بہتر طور پر کام انجام دیتا ہے بلکہ تعریف اس جانباز کی ہے جو میدانِ کارزار میں گھسا ہوا ہے سارا بدن پسینے میں غرق ہے ہاتھ گرد آلود ہو رہے ہیں پیشانی زخمی ہو گئی ہے اور منہ سے خون ٹپک رہا ہے، بار بار گرتا ہے، پھر اٹھتا ہے، کوشش کرتا ہے اور ناکام رہتا ہے۔ غرض جو واقعی کسی کارخیر کے پیچھے جان دیے ہوئے ہے ایسا آدمی گو ناکام بھی رہے تو وہ کسی مقصدِ اعلیٰ میں ناکام رہا۔ اس کی جگہ ہرگز اس سرد مہر و مردہ دل کے ساتھ نہیں ہو سکتی جس نے نہ کبھی فتح کا مزہ چکھا نہ شکست کا۔
تف ہے ان علما پر جن کی نازک دماغی اور موشگافیوں نے انہیں کاروبارِ دنیا کے لیے بالکل ناکارہ کر دیا ہے۔ آزاد قوم جو اپنے آپ حاکم ہیں ان میں جو لوگ زاویہ نشینی و گوشہ گیری کی زندگی بسر کرتے ہیں وہ بہت ہی کم فائدہ رساں ہیں اور وہ تو ان سے بھی زیادہ بے مصرف ہیں جن کا کام صرف کام کرنے والوں پر ہنسنا اور ان کی حقارت کرنا ہے اور نہ وہ لوگ کسی مرض کی دوا ہیں جو ہمیشہ اس آرزو میں رہتے ہیں کہ اس وقت کام میں ہاتھ لگائیں گے جبکہ زمانہ ان کی خواہش کے مطابق ہو جائے گا۔ صفحاتِ تاریخ میں بے عمل آدمی کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدنما رہ جائے گی گو وہ زاہدِ خشک ہو یا رندِ بے پروا وہ کسی مرض کی دوا نہیں جس کا دل مردہ، نہ جذباتِ اعلیٰ سے واقف ہے، نہ اعتقاد و غیرت مندی سے آگاہ، نہ دلیروں کے اس جوش و پامردی کو جانتا ہے جس سے وہ بجلیوں پر چڑھ بیٹھتے اور طوفان کو دبا ڈالتے ہیں اگر ایسا آدمی کامیاب ہوا تو فہو المراد اور اگر ناکام رہا تب بھی افسوس نہیں۔
