جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تریا چرتر

(1)

سیٹھ لگن داس جی کا نخل حیات بے ثمر تھا۔ کوئی ایسی انسانی روحانی یا طبی کوشش نہ تھی جو انہوں نے نہ کی ہو۔ یوں شادی میں مسئلہ توحید کے قائل تھے۔ مگر ضرورت اور اصرار سے مجبور ہو کر ایک دو نہیں پانچ شادیاں کیں۔ یہاں تک کہ عمر عزیز کے چالیس سال گزر گئے اور خانہ تاریک روشن نہ ہوا۔ بیچارے بہت رنجیدہ رہتے۔ یہ مال و زر، یہ کر و فر، یہ امیرانہ اہتمام، یہ ناز و احتشام کیا ہوں گے! میرے بعد ان کا کیا حشر ہو گا۔ کون ان سے حظ اٹھائے گا۔ یہ خیال بہت افسوس ناک تھا۔ آخر یہ صلاح ہوئی کہ کسی لڑکے کو گود لینا چاہیئے۔ مگر یہ مسئلہ خاندانی نزاعات کے باعث کئی سالوں تک موردالتوا رہا۔ جب سیٹھ جی نے دیکھا کہ بیویوں میں ابھی تک بدستور کشمکش ہو رہی ہے تو انہوں نے اخلاقی جرات سے کام لیا اور ایک ہونہار یتیم لڑکے کو گود لے لیا۔ اس کا نام رکھا گیا مگن داس۔ اس کا سن پانچ چھ سال سے زائد نہ تھا۔ بلا کا ذہین اور با تمیز۔ مگر عورتیں سب کچھ کر سکتی ہیں دوسرے کے بچے کو اپنا نہیں سمجھ سکتیں۔ یہاں تو پانچ عورتوں کا ساجھا تھا۔ اگر ایک اسے پیار کرتی تو باقی چار عورتوں کا فرض تھا کہ اس سے نفرت کریں۔ ہاں سیٹھ جی اس کے ساتھ بالکل اپنے لڑکے کی سی محبت کرتے۔ پڑھانے کو ماسٹر رکھے، سواری کے لیے گھوڑے، رئیسانہ خیال کے آدمی تھے۔ راگ رنگ کا سامان بھی مہیا تھا۔ گانا سیکھنے کا لڑکے نے شوق کیا تو اس کا بھی انتظام ہو گیا۔ غرض جب مگن داس سن شباب کو پہنچا تو رئیسانہ مشاغل میں اسے درجۂ کمال حاصل تھا۔ اس کا گانا سن کر استاد لوگ کانوں پر ہاتھ رکھتے۔ شہسوار ایسا کہ دوڑتے ہوئے گھوڑے پر سوار ہو جاتا۔ قدر و قامت میں، شکل و شباہت میں، اس کا سا البیلا جوان دہلی میں کم ہو گا۔ شادی کا مسئلہ درپیش ہوا۔ ناگپور کے کروڑ پتی سیٹھ مکھن لال نہایت لہرائے ہوئے تھے۔ ان کی لڑکی سے شادی ہو گئی۔ دھوم دھام کا ذکر کیا جائے تو قصۂ شبِ ہجر سے بھی طویل ہو جائے۔ مکھن لال کا تو اسی شادی میں دیوالہ نکل گیا۔ اس وقت مگن داس سے زیادہ قابل رشک آدمی اور کون ہو گا؟ اس کی زندگی کی بہار امنگوں پر تھی اور مرادوں کے پھول اپنی شبنمی تازگی میں کھل کھل کر حسن اور شگفتگی کا سماں دکھا رہے تھے۔ مگر تقدیر کی دیوی کچھ اور ہی سامان کر رہی تھی۔ وہ سیر و سیاحت کے ارادہ سے جاپان گیا ہوا تھا کہ دہلی سے خبر آئی کہ ”ایشور نے تمہیں ایک بھائی دیا ہے۔ مجھے اتنی خوشی ہے کہ شاید زیادہ عرصہ تک زندہ نہ رہ سکوں۔ تم بہت جلد لوٹ آؤ۔“ مگن داس کے ہاتھ سے تار کا کاغذ چھوٹ گیا۔ اور سر میں ایسا چکر آیا کہ گویا کسی بلندی سے گر پڑا ہے۔

(2)

مگن داس کی کتابی واقفیت بہت کم تھی۔ مگر طبعی شرافت سے وہ خالی نہ تھا۔ ہاتھوں کی فیاضی نے جو فراغت کی برکت ہے، دل کو بھی فیاض بنا دیا تھا۔ اسے اتفاقات کی اس کایا پلٹ سے صدمہ تو ضرور ہوا، آخر انسان ہی تھا۔ مگر اس نے استقلال سے کام لیا اور ایک امید و بیم کی حالت میں وطن روانہ ہوا۔ رات کا وقت تھا۔ جب اپنے دروازے پر پہنچا تو بزمِ نشاط آراستہ دیکھی۔ اس کے قدم آگے نہ بڑھے۔ لوٹ پڑا اور ایک دوکان کے چبوترے پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہیئے۔ اتنا تو اسے یقین تھا کہ سیٹھ جی اس کے ساتھ اسی اخلاق اور محبت سے پیش آئیں گے۔ بلکہ شاید اب اور بھی عنایت کرنے لگیں۔ سیٹھانیاں بھی اب اس کے ساتھ مغائرت‌‌بیگانگی کا برتاؤ نہ کریں گی۔ ممکن ہے منجھلی بہو جو اس بچے کی خوش نصیب ماں تھیں۔ اس سے محترز رہیں۔ مگر باقی چاروں سیٹھانیوں کی جانب سے خاطر و مدارات میں کوئی شک نہیں تھا۔ ان کے حسد سے وہ فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ تاہم اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ جس گھر میں آقا کی حیثیت سے رہتا تھا۔ اسی گھر میں اب ایک دست نگر کی حیثیت سے زندگی بسر کرے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب یہاں رہنا نہ مناسب ہے نہ مصلحت، مگر جاؤں کہاں؟ نہ کوئی ایسا فن سیکھا، نہ کوئی ایسا علم حاصل کیا جس سے کسب معاش کی صورت پیدا ہوتی۔ رئیسانہ مشاغل اسی وقت تک قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جب تک وہ رئیسوں کے زیورِ کمال رہیں۔ ذریعہ معاش بن کر وہ پایۂ عزت سے گر جاتے ہیں۔ اپنی روزی حاصل کرنا تو اس کے لیے کوئی ایسا مشکل کام نہ تھا۔ کسی سیٹھ ساہوکار کے یہاں منیب بن سکتا تھا۔ کسی کارخانہ کی طرف سے ایجنٹ ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے کندھے پر ایک بھاری جوا رکھا ہوا تھا اسے کیا کرے۔ ایک بڑے سیٹھ کی لڑکی جس نے ناز و نعمت میں پرورش پائی اس سے یہ بے نوائی کی تکلیفیں کیونکر جھیلی جائیں گی۔ کیا مکھن لال کی لاڈلی بیٹی ایک ایسے شخص کے ساتھ رہنا پسند کرے گی جسے نان شبینہ‌رات کا کھانا کا بھی ٹھکانا نہیں! مگر میں اس فکر میں اپنی جان کیوں کھپاؤں؟

میں نے اپنی مرضی سے شادی نہیں کی۔ میں برابر انکار کرتا رہا۔ سیٹھ جی نے زبردستی میرے پیروں میں یہ بیڑی ڈالی ہے۔ اب وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ مجھے کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن جب اس نے دوبارہ ٹھنڈے دل سے اس مسئلہ پر غور کیا تو مفر کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ بالآخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے ناگپور چلوں۔ ذرا ان مہارانی کے طور و طریق کو دیکھوں۔ باہر ہی باہر ان کے مزاج اور خواص کی جانچ کروں، اس وقت طے کروں گا کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے۔ اگر ریاست کی بو ان کے دماغ سے نکل گئی ہے، اور میرے ساتھ روکھی روٹیاں کھانا منظور ہیں تو ازیں چہ بہتر۔ لیکن اگر وہ امیرانہ تکلفات کی دلدادہ ہیں، تو میرے لیے راستہ صاف ہے۔ پھر میں ہوں اور غمِ دنیا۔ ایسی جگہ جاؤں جہاں کسی آشنا کی صورت خواب میں بھی نہ دکھائی دے۔ افلاس کی ذلت نہیں رہتی اگر اجنبیوں میں زندگی بسر کی جائے۔ یہ ہم چشموں کی کنکھیاں اور سرگوشیاں ہیں جو افلاس کو عذاب بنا دیتی ہیں۔ یوں دل میں زندگی کا نقشہ بنا کر مگن داس اپنی ہمتِ مردانہ کے بھروسہ پر ناگپور کی طرف چلا۔ اس ملاح کی طرح جو بغیر کشتی و بادبان کے دریا کی امڈتی ہوئی لہروں میں اپنے تئین ڈال دے۔

(3)

شام کے وقت سیٹھ مکھن لال کے پر فضا باغ میں سورج کی زرد کرنیں مرجھائے ہوئے پھولوں سے گلے مل کر رخصت ہو رہی تھیں۔ باغ کے وسط میں ایک پختہ کنواں تھا۔ اور ایک مولسری کا درخت۔ کنوئیں کے منہ پر تاریکی کی نیلگوں نقاب تنی۔ درخت کے سر پر روشنی کی سنہری چادر۔ اسی درخت کے نیچے ایک بوڑھی مالن بیٹھی ہوئی پھولوں کے ہار اور گجرے گوندھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک نوجوان تھکا ماندہ کنویں پر آیا اور لوٹے سے پانی بھر کر پینے کے بعد جگت پر بیٹھ گیا۔ مالن نے پوچھا۔ ”کہاں جاؤ گے؟“

مگن داس نے جواب دیا کہ ”جانا تو تھا بہت دور مگر یہیں رات ہو گئی۔ یہاں کہیں ٹھہرنے کا ٹھکانہ مل جائے گا؟“

مالن۔ ”چلے جاؤ سیٹھ جی کے دھرم سالے میں بڑے آرام کی جگہ ہے۔“

مگن داس۔ دھرم سالے میں تو مجھے ٹھہرنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ کوئی ہرج نہ ہو تو یہیں پڑ رہوں، یہاں کوئی رات کو رہتا ہے؟

مالن۔ ”بھائی میں یہاں ٹھہرنے کو نہ کہوں گی۔ یہ ملی ہوئی بائی جی کی بیٹھک ہے۔ جھروکے میں بیٹھ کر سیر کیا کرتی ہیں۔ کہیں دیکھ داکھ لیں تو میرے سر میں ایک بال بھی نہ رہے۔“

مگن داس۔ ”بائی جی کون؟“

مالن۔ ”یہی سیٹھ جی کی بیٹی اندرابائی۔“

مگن داس۔ ”یہ گجرے انہیں کے لیے بنا رہی ہو کیا؟“

مالن۔ ”ہاں“۔ اور سیٹھ جی کے یہاں ہے ہی کون؟ پھولوں کے گہنے بہت پسند کرتی ہیں۔

مگن داس۔ ”شوقین عورت معلوم ہوتی ہیں!“

مالن۔ ”بھائی۔ یہی تو بڑے آدمیوں کی باتیں ہیں۔ وہ شوق نہ کریں تو ہمارا تمہارا نباہ کیسے ہو؟ اور دھن ہے کس کے لیے۔ اکیلی جان پر دس لونڈیاں ہیں۔ سنا کرتی تھی کہ بھاگوان آدمی کاہل بھوت جوتتا ہے۔“

وہ آنکھوں دیکھا۔ وہ آنکھوں دیکھا۔ آپ ہی آپ پنکھا چلنے لگے۔ آپ ہی آپ سارے گھر میں دن کا سا اجالا ہو جائے۔ تم جھوٹ سمجھتے ہو گے۔ مگر میں آنکھوں کی دیکھی بات کہتی ہوں۔

اس احساسِ فضیلت کیساتھ جو کسی بے علم آدمی کے سامنے اپنی معلومات کے بیان کرنے میں ہوتا ہے بوڑھی مالن اپنی ہمہ دانی کا اظہار کرنے لگی۔ مگن داس نے اکسایا۔ ”ہو گا بھائی۔“ بڑے آدمیوں کی باتیں نرالی ہوتی ہیں لکشمی کے بس میں سب کچھ ہے۔ مگر اکیلی جان پر دس لونڈیاں سمجھ میں نہیں آتا۔